منقبت

اشعار، انتخاب رائے ديں »

شہر علم کے دروازے پر

کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہے

نہ جانے ہم بے یقیں لوگوں کو نامِ حیدر سے ربط کیوں ہے

حکیم جانے وہ کیسے حکمت سے آشنا تھا

شجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھا

حلیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا ناخُدا تھا

مجھے تو بس صرف یہ خبر ہے

وہ مرے مولاﷺ  کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھا

وہ اُنﷺ  کے دامان عاطفت میں پلا بڑھا تھا

اور اُس کے دن رات مرے آقاﷺ کے چشم و ابرو و جُنبشِ لب کے منتظر تھے

وہ رات کو دشمنوں کے نرغے میں سو رہا تھا تو اُنﷺ کی خاطر

جدال میں سر سے پاؤں تک سرخ ہو رہا تھا تو اُنﷺ کی خاطر

سو اُس کو محبوب جانتا ہوں

سو اُس کو مقصود مانتا ہوں

سعادتیں اُس کے نام سے ہیں

محبتیں اُس کے نام سے ہیں

محبتوں کے سبھی گھرانوں کی نسبتیں اس کے نام سے ہیں

—–

کلام: افتخار عارف

بشکریہ: عمار عاصی و دیگر

Share This Post

عید مبارک، حج مبارک

Events، حج بیت اللہ 2 آراء »

تمام قارئین کو دلی عید مبارک اور جن لوگوں کو امسال حج کی سعادت نصیب ہوئی ان کو خصوصی مبارک۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو بیت اللہ کی زیارت سے شرفیاب کرے۔

خوش قسمتی سے مجھے اس سال بھی حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ میری کوشش ہو گی کہ اس بابرکت سفر کی روداد مختصراً بیان کروں۔ ارادہ تو پچھلے سال بھی تھا اور کافی تصاویر بھی اتاری تھیں لیکن اس وقت یہ بلاگ معرض وجود میں نہیں آیا تھا اس وجہ سے ارادہ صرف خواب و خیال کی حد تک ہی محدود رہا۔

مصروفیات کی زیادتی اور وقت کی کمی کی وجہ سے میں اس سفر کو قسطوں میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ دعا کریں کہ اس بار میں اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو جاؤں۔

اگلی نشست تک کیلئے اجازت۔

Share This Post

مہربان ہستی

اشعار، انتخاب رائے ديں »
چہرے پہ اپنا دست کرم پھیرتی ہوئی

ماں رو پڑی ہے سر کو مرے چومتی ہوئی
 

اب کتنے دن رہو گے مرے پاس تم یہاں

تھکتی نہیں ہے مجھ سے یہی پوچھتی ہوئی
 

رہتی ہے جاگتی وہ مری نیند کے لئے

بچوں کو مجھ سے دور پرے روکتی ہوئی
 

بے چین ہے وہ کیسے مرے چین کے لئے

آتے ہوئے دنوں کا سفر سوچتی ہوئی
 

کہتی ہے کیسے کٹتی ہے پردیس میں تری

آنکھوں سے اپنے اشک رواں پونجھتی ہوئی
 

ہر بار پوچھتی ہے کہ کس کام پر ہو تم

فخریؔ وہ سخت ہاتھ مرے دیکھتی ہوئی

 

کلام : زاہد فخری

Share This Post

نازک بدن

اشعار، انتخاب رائے ديں »

جسے دیکھتے ہی خماری لگے

جسے عمر ساری ہماری لگے

اجالا سا ہے اس کے چاروں طرف

وہ نازک بدن پاؤں بھاری لگے

وہ سسرال سے آئی ہے میکے

اسے جتنا دیکھوں پیاری لگے

وضاحت:۔

باپ کے احساسات اپنی بیٹی کے بارے میں جو پاؤں بھاری ہونے پر سسرال سے میکے آئی ہے اور اس پر ایک نئی چمک دمک ہے۔

[ شاعر کا مدعا سمجھنے کیلئے اب اشعار دوبارہ پڑھیے (; ]

ماخذ : عرب نیوز

(اشعار و نثر)

Share This Post

اغوا برائے تاوان

خصوصی رپورٹ، کرائم سیل 5 آراء »

(خصوصی رپورٹ – کرائم سیل ) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کافی مخدوش ہے۔ مختلف علاقوں میں دھمکیوں اور اغوا برائے تاوان کا سلسلہ جاری ہے ۔ خوش اخلاق و خوش رو اور بر سر روزگار انجینئرز ملزمان کا خاص شکار بن رہے ہیں۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص مسمی علی عباس خواجہ عرف (CR)  کو مورخہ 28 ستمبر 2009 کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ دھمکیوں کا سلسلہ تو کافی عرصہ سے جاری تھا اور حساس اداروں نے علی کو محتاط رہنے کا کہا تھا۔

اسی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص فہد شکیل عرف شیخ صاحب کو مورخہ 10 اکتوبر 2009 کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ تقریبا ایک سال سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری تھا۔

 "ملزمان" کی شرائط کافی سخت ہیں۔ دونوں اشخاص کیلئے تاوان عمر بھر شریک حیات کی خدمت کا مطالبہ ہے۔ تاوان کی ادائیگی کے باوجود رہائی کی بالکل امید نہیں ہے۔

یاد رہے کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص مسمی اسد علی عرف سندھو کو ماہ رمضان سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ حساس ادارے کےمطابق اسد کو مستقبل قریب میں اغوا کر لیا جائے گا۔

وسیع تر مفاد عامہ کے لیئے  ہوشیار کیا جاتا ہے کہ آج کل حالات کافی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔ ۔مستقبل میں اس طرح کی مزید وارداتوں کا امکان ہے۔  اس لئے اپنی حفاظت کیلئے "حکومت" پر بھروسہ کرنے کی بجائے کوئی عملی کوشش کیجئے۔

Share This Post

یوم اساتذہ

Events، Special Days رائے ديں »

ایک لمبے وقفے کے بعد پھر حاضر خدمت ہونے کا موقع ملا ہے۔ ویسے تو بہت سے عناوین ذہن میں ہیں لیکن کچھ مصروفیات اور کچھ میری سستی آڑے آئی اور یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا، بہر کیف۔۔۔۔

آج پاکستان میں یوم اساتذہ منایا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک میں مختلف ایام میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کے مقام و مرتبہ کواجاگر کیا جائے اور اس کو وہ عزت و احترام دیا جائے جس کا وہ حقدار ہے۔ ایک انگریزی مقولہ ہے

A Teacher is a beacon that lights the path of a child

یعنی، استاد وہ مینارہ نور ہے جوبچے کی راہ کو (علم و ہدایت سے ) منور کر دیتا ہے۔

ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو بچے کو نہ صرف ایک اچھا طالب علم بنائے بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنائے۔

سکندر اعظم کا قول ہے

میرے والد ین نے مجھے زمین پر اتارا  اور میرے استاد نے مجھے آسمان کی بلندی تک پہونچا دیا۔

نوبل انعام یافتہ سائنسداں عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے استاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا

کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حقدار نہ بنتا، میری نظر میں نوبل انعام کی اہمیت آپ کے ایک روپئے سے بھی کم ہے ۔

ویسے تو سکول سے لے کر یونیورسٹی تک بہت سے اساتذہ قابل ذکر ہیں لیکن میں کالج کے ریاضی کہ استاد کا بالخصوص ذکر کروں گا۔ ان کا اسم گرامی ریاض احمد تھا۔ ان کی اپنے مضمون سے لگن اس حد تک تھی کہ طلبا کہا کرتے تھے کہ ریاض نکلا ہی ریاضی سے ہے۔ اپنے مضمون پر کامل عبور تو بہت سے اساتذہ کو ہوتا ہے لیکن ان کا سمجھانے کا انداز ایسا  تھا  کہ مشکل سے مشکل چیز بھی عام فہم مثالوں سے واضح کردیتے تھے۔ آج کئی سالوں بعد بھی اگر گھر میں کسی بچے کو کچھ سمجھانے لگتا ہوں تو ان کی مثالیں  یاد آ جاتی ہیں۔  عمومی کلاسوں کہ علاوہ وہ ویک اینڈ پر بھی بلا معاوضہ  فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کی کلاسیں لیتے تھے ۔ حال ہی میں وہ کالج سے فارغ ہوئے ہیں اور فی الحال جدہ میں ہی مقیم ہیں۔

آج کے دن میں اپنے تمام اساتذہ (وہ بھی جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں ان) کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ان کو بابرکت طول عمر عطا فرمائے، اور وہ اسی لگن اور جذبے کہ ساتھ علم ودانش کی ترویج کا مشن جاری رکھیں۔ آمین۔

Share This Post

ماں تجھے سلام

Events، Special Days، mother day، یوم مادر رائے ديں »

آج “یوم مادر” کی مناسبت سے، ہر خوش نصیب اپنے انداز میں، اپنی اپنی زبان میں (کہتے ہیں کہ پیار کی تو ایک ہی زبان ہے!! )، اپنی محبوب ترین ہستی کو خراج تحسین پیش کر نے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اس کا حق تو کبھی ادا ہی نہیں کیا جا سکتا، صرف کوشش ہی کی جا سکتی ہے۔

اس بحث کو کسی دوسری نشست کے لیئے چھوڑتے ہیں کہ آیا ہم اپنی مادر سے اظہار محبت کے لیئے مخصوص دن کے محتاج ہیں؟

ماں کے بارے میں بہت کچھ کہا جاچکا ہے، اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ لفظ “ماں” سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی ہستی کا خیال آتا ہے جس کی  آغوش میں انسان کو دنیا بھر کے مصائب اور آلام سے پناہ ملتی ہے۔ جہاں پہنچ کر انسان کو سکھ اور راحت ملتی ہے، وہ اپنے تمام دکھ بھول جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ماں سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ جنہیں ماں جیسی نعمت میسر ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوں، تنہا نہیں ہوں گے، ماں کی دعاہیں ہر وقت ان کو حصار میں لیئے ہونگی۔

انسان جتنا بھی بڑا ہو جائے، اپنے والدین (اور اساتذہ) کے لیئے وہ بچہ ہی رہتا ہے۔ آج کے دن کی مناسبت سے میں اپنی والدہ کے حضور گزارش کرتا ہوں کہ اگر میں نے دانستہ یہ نادانستہ کوئی غلطی کی ہو، کوئی گستاخی کرنے کی جسارت کی ہو یا کوئی ایسی بات کہی ہو جو آپ کے مرتبے کے منافی ہو، تو  میں ایک بار پھر دست بستہ معافی کا طلب گار ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کو بابرکت طول عمر عطا فرمائے اور ہمیں آپ کی خدمت کرتے رہنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔

آج میں ایک اور ہستی کی کمی بہت شدت سے محسوس کر رہا ہوں اور وہ ہیں میری دادی اماں۔ میں تفصیل میں نہیں جائوں گا، صرف اتنا ہی کہنا کافہ ہو گا کہ گھر والے مجھے “دادی دا پُتر” کہتے تھے۔ گزشتہ سال وہ ہم سب کو داغ مفارقت دے کر دارِ فانی سے دارِ بقا کی جانب کوچ کر گئیں۔ باری تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں ان کا مسکن کرار دے۔ آمین ثم آمین۔

آج کی نشست کا اختتام میں مرزا ادیب کے اقتباس سے کروں گا۔ اقتباس

Share This Post

تعارفی سلام

General رائے ديں »

راہ حق کے پیروکاروں کو سلام پہنچے۔

اردو بلاگ گا ارادہ کافی عرصے(2،3 سالوں) سے تھا، آخر کار آج یوم مادر کی مناسبت سے، یہ بلاگ معرض وجود میں آ ہی گیا۔

باقی تفاصیل کسی آئندہ نشست میں۔

یار زندہ، صحبت باقی۔

Share This Post

جملہ حقوق بحق صحرا نورد محفوظ ہيں.